ہوگرالی کا آدم خور

ہوگرالی کا آدم خور
مقبول جہانگیر
میری شکاری زندگی کے اکثر لرزہ خیز واقعات کا تعلّق ریاست میسور کے نواحی جنگلوں سے ہے۔ یہ جنگل کتنے بھیانک اور تاریک ہیں؟ اس کے جواب میں سینکڑوں صفحے سیاہ کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن میں صرف یہ کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ جو لوگ افریقہ کے جنگلوں کی سیاحت کر چکے ہیں، وہ ذرا ایک مرتبہ میسور کے جنگلوں میں بھی گُھوم آئیں۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ "جنگل’ کی صحیح تعریف کیا ہے اور جنگلی درندے کِس قسم

سدا رام اور شیر

سدا رام اور شیر
مقبول جہانگیر
جب پہلے پہل میں نے اُسے دیکھا، تو وہ بہت کم عُمر تھا۔ غالباً ایک سال کا۔ چھوٹے سے ٹیریر کُتّے کی مانند اِدھر سے اُدھر دوڑ رہا تھا،لیکن تھا بہت پیارا اور خوبصورت۔ پہلی نظر ہی میں مجھے اس سے محبت ہوگئی۔ شاید اس لیے کہ اس میں شیروں والی کوئی بات نہ تھی۔ کم سِنی کے باعث وہ بے حد شریر اور چُلبلا تھا اور اُس کی یہی ادائیں مجھے بھا

ویت نام کے آدم خور

ویت نام کے آدم خور
مقبول جہانگیر
دنیا میں شیروں کی نسلیں آہستہ آہستہ غائب ہوتی جا رہی ہیں اور آجکل یہ جانور افریقہ، بھارت مشرقی پاکستان، ملایا اور ہندچینی کے علاقوں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ افریقہ اور بھارت میں شیروں کے شکار کرنے والے بہت سے شکاریوں نے اپنے اپنے تحیّر خیز تجربات بیان کیے ہیں اور ان ملکوں میں پائے جانے والے شیروں پر کتابیں لکّھی ہیں، لیکن ہندچینی کے وسیع و عریض گھنے جنگلوں میں بہت کم شکاریوں کو شکار کے لیے جانے کا موقع ملا ہے۔ شاید

امبل میرو کا پُراسرار بُھوت

امبل میرو کا پُراسرار بُھوت
 مقبول جہانگیر
یہ واقعہ میری طویل شکاری زندگی کے اُن عجیب اور لرزہ خیز واقعات میں سے ہے جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے کی صحیح پوزیشن سمجھنے کے لیے آپ کو آندھرا پردیش کے جنگلوں میں جانا پڑے گا۔ ضلع چتّوڑ میں بھاکر پت، چمالا اور مامندر کے تینوں جنگل قریب قریب واقع ہیں۔ ان کے کناروں پر بہت سے گاؤں اور بستیاں آباد ہیں۔ یہ جنگل اپنے قدرتی مناظر کے اعتبار سے جتنے حسین ہیں، اس سے کہیں زیادہ خطرناک

پانار کا آدم خور چیتا

پانار کا آدم خور چیتا
مقبول جہانگیر
پانار کا آدم خور چیتا یقیناً ایسی بَلا تھی جس سے معصوم اور سیدھے سادھے انسانوں کو نجات دلانے کے لیے مجھے بڑی تگ و دَو کرنی پڑی۔ چار سو افراد کو ہڑپ کر لینے کے باوجود اس درندے کی صفتِ خوں آشامی جوان تھی اور اسکی ہلاکت خیز سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا تھا۔ یہ ذکر ہے 1907ء کا اور اُن دنوں مَیں کچھ زیادہ تجربے کار شکاری بھی نہ تھا۔ جنگل کا چلن اور طور طریقے سمجھنے کے لیے ایک مُدّت درکار تھی۔ سب سے پہلے جس آدم خور سے

ملایا کے جنگلوں میں

ملایا کے جنگلوں میں
مقبول جہانگیر
مقبول جہانگیر
یہ ذکر ہے ملایا کے شمال مشرقی جنگلوں کا۔ اُس زمانے میں بصیغۂ ملازمت میں ریاست ترنگا میں تعینات تھا۔۔
موجودہ تہذیب و تمدّن اور جدید ترین آسائشوں سے ناآشنا اِس ریاست میں زمانۂ قدیم کی رسمیں اور رواج رائج تھے، باشندے اگرچہ مسلمان تھے۔ اکثر قرآن کے حافظ اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، تاہم ان میں بھی توہم پرستی زوروں پر تھی اور خصوصاً ربڑ کے جنگلوں

تیندوے کے طور طریقے

تیندوے کے طور طریقے
ہر تیندوا دوسرے سے فرق ہوتا ہے۔ کچھ تیندوے بہت نڈر ہوتے ہیں جبکہ کچھ تیندوے شرمیلے۔ کچھ تیندوے کمینگی کی حد تک چالاک ہوتے ہیں جبکہ دیگر تیندوے احمق۔ میری مڈھ بھیڑ ایسے تیندوؤں سے بھی ہوئی ہے جن میں چھٹی حس پائی جاتی تھی اور ان کے افعال سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ اپنے مخالف کی سوچ پڑھ رہے ہوں۔ آخر میں وہ کمیاب تیندوے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے انسانوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم آدم خور تیندوے