ڈیانا کیا تم اس جنگلی بھینسے کو دیکھ رہی ہو۔۔۔؟ پیٹر نے آنکھوں سے دوربین ہٹائے بغیر مجھ سے پوچھا: ’’بالکل۔۔۔ وہ سب سے منفرد بڑا نظر آتا ہے۔‘‘ میں گھاس کے آخری سرے پر کھڑے اس بھینسے کو دیکھتے ہوئے بولی: ’’میں نے اتنا شاندار جنگلی بھینسا آج تک نہیں دیکھا تھا۔‘‘ اس کے
یوں تو ہمارا سارا خاندان ہی شکار کا شیدائی تھا لیکن والد صاحب تو حقیقت میں شکار کے دیوانے تھے۔ وہ ہر سال جاڑے کے موسم میں ہفتے عشرے کے لیے شکار کی مہم پر جایا کرتے تھے۔ اس مہم میں ہمارے خاندان کے سبھی لوگ شرکت کرتے۔ کُل نفری ڈیڑھ دو سو آدمیوں پر مشتمل ہوتی۔ ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور بہلیاں ساتھ ہوتیں، ہم لوگ صبح ناشہ کرتے ہی شکار پر نکل جاتے۔ دوپہر کا کھانا پک کر باہر جنگل میں