جم کاربٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جم کاربٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 27 فروری، 2017

جنگل لور
جم کوربٹ
مترجم: محمد منصور قیصرانی 
باب ۱
ہم چودہ لڑکے لڑکیاں جن کی عمریں آٹھ سے اٹھارہ کے درمیان تھیں، لکڑی سے بنے پل کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے جو کالا ڈھنگی میں دریائے بور پر بنایا

جمعرات، 23 فروری، 2017

ٹِری ٹوپس 
جم کوربٹ 
مترجم: سمیع محمد خان
تعارف 
جم کوربٹ نے سنہ ۱۹۵۲ میں ملکہ ایلزبتھ کے ٹری ٹوپس پر مدعو کیے جانے کا قصہ کینیا میں اپنے اچانک انتقال سے کچھ عرصے پہلے ۱۹ اپریل سنہ ۱۹۵۵ کو مکمل کیا

منگل، 14 مئی، 2013

کماؤں کے آدم خور
جم کوربٹ
مترجم: محمد منصور قیصرانی

پیش لفظ

اتوار، 31 مارچ، 2013

تلہ دیس کا آدم خور
جم کاربٹ
(۱)
بندو کھیڑا میں جوبن پر آئے ہوئے گل مور کے درختوں کے نیچے لگائے گئے کیمپ سے زیادہ بہتر کیمپ پورے کوہ ہمالیہ میں کہیں نہیں ہو سکتا۔ اب آپ خود ذرا تصور کریں کہ سفید خیمے اور ان پر مالٹائی رنگ

پانار کا آدم خور
جم کاربٹ
(۱)
جب میں ۱۹۰۷ء میں چمپاوت کی آدم خور شیرنی کے شکار میں سر گرداں تھا تو مجھے اس آدم خور تیندوے کا پتہ چلا جس نے الموڑا ضلع کے مشرقی سرے میں دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ یہ تیندوا جس کے بارے ہاؤس آف کامنز میں بھی سوال پوچھے گئے، کئی ناموں

جمعہ، 29 مارچ، 2013

جنگل کا قانون
جم کاربٹ
ہرکور اور کنٹھی کی شادی جب ہوئی تو ان کی کل عمروں کا مجموعہ دس سال سے کم تھا۔ ان دنوں اس عمر میں شادی ہندوستان کا عام رواج تھا۔ اگر مہاتما گاندھی اور مس مایو یہاں نہ پیدا ہوتے تو یہ رواج اب تک چل رہا ہوتا۔
ہرکور اور کنٹھی کے گاؤں دناگری پہاڑ کے دامن میں ایک دوسرے سے چند میل کے فاصلے پر تھے۔ دونوں نے پہلی بار

اتوار، 24 مارچ، 2013

چوکا کا آدم خور شیر
جم کاربٹ
چوکا۔۔۔۔۔ جس نے لدھیا وادی کے آدم خور شیر کو چوکا کے آدم خور کا نام دیا۔ لدھیا وادی کے قریب دریائے ساروا کے دائیں کنارے پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس گاؤں کے شمال مغربی کنارے سے ایک راستہ ایک چوتھائی میل چل کر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ جس کا ایک تہائی حصہ تو ٹھک جاتا ہے اور دوسرا حصہ پہاڑیوں میں سے بل کھا کر کوٹی کندری میں ختم

مکتیسر کی آدم خور شیرنی
جم کاربٹ
نینی تال سے اٹھارہ میل شمال مشرق کی طرف آٹھ ہزار فٹ اونچی اور پندرہ میل لمبی ایک پہاڑی ہے جو مغرب سے مشرق کو پھیلی ہوئی ہے۔ اس پہاڑی کا مغربی کنارا ایک دم اوپر کو اٹھا ہوا ہے اور اس کنارے کے نزدیک مکتیسر کا تحقیقیاتی ادارہ برائے جنگلی حیات ہے۔ جہاں ہندوستان میں حیوانات کی بیماریوں کی روک تھام کے لیئے مختلف ادویات کی تحقیق کی جاتی ہے۔ اس ادارہ کی تجربہ گاہ

ہفتہ، 23 مارچ، 2013

مندر کا شیر
جم کاربٹ
جو شخص کبھی دیبی دھورا نہیں گیا وہ اس کے گردوپیش کے مناظر کے حُسن کا کبھی اندازہ نہیں کرسکتا۔ یہاں "پرماتما کے پہاڑ" کی چوٹی کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس ہے۔ اس ریسٹ ہاؤس کے برآمدے میں کھڑے ہوکر آپ جِدھر نظر اٹھائینگے آپ کو ازلی و ابدی حُسن کےطلسمی نظارے دکھائی دینگے۔ ریسٹ ہاؤس سے دریائے پانار کی ڈھلان شروع ہوجاتی ہے۔ اس وادی سے پرے پہاڑیوں کا

ردراپریاگ کا آدم خور تیندوا
جم کاربٹ
تلخیص و ترجمہ: انیس الرحمن
ہندوستان کے تپتے ہوئے میدانوں کے باسی کیدرناتھ اور بدری ناتھ کی یاتراؤں پر جاتے ہیں۔ ان یاتراؤں کا آغاز ضلع گھڑوال میں ہردوار سے ہوتا ہے۔ ہردوار سے رکی کیش ،لچھمن جھولا، شری نگر، چٹخال اور گلاب رائے سے ہوتے ہوئے ردراپریاگ پہنچا جاتا ہے اور وہاں سے کیدرناتھ اور بدری ناتھ۔ پریاگ ہندی

Popular Posts