ڈیانا کیا تم اس جنگلی بھینسے کو دیکھ رہی ہو۔۔۔؟ پیٹر نے آنکھوں سے دوربین ہٹائے بغیر مجھ سے پوچھا: ’’بالکل۔۔۔ وہ سب سے منفرد بڑا نظر آتا ہے۔‘‘ میں گھاس کے آخری سرے پر کھڑے اس بھینسے کو دیکھتے ہوئے بولی: ’’میں نے اتنا شاندار جنگلی بھینسا آج تک نہیں دیکھا تھا۔‘‘ اس کے
یوں تو ہمارا سارا خاندان ہی شکار کا شیدائی تھا لیکن والد صاحب تو حقیقت میں شکار کے دیوانے تھے۔ وہ ہر سال جاڑے کے موسم میں ہفتے عشرے کے لیے شکار کی مہم پر جایا کرتے تھے۔ اس مہم میں ہمارے خاندان کے سبھی لوگ شرکت کرتے۔ کُل نفری ڈیڑھ دو سو آدمیوں پر مشتمل ہوتی۔ ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور بہلیاں ساتھ ہوتیں، ہم لوگ صبح ناشہ کرتے ہی شکار پر نکل جاتے۔ دوپہر کا کھانا پک کر باہر جنگل میں
چینا گڑھ کا مشہور آدم خور شیر کسی مرے ہوئے سنار کی بدروح سمجھا جاتا تھا۔ اس موذی نے ایک سال میں ۷۸آدمی ہڑپ کیے۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے پیر میں چاندی کا کڑا ہے۔ ایک شکاری صاحب نے بتایا کہ اس کا رنگ سفید ہے۔ آدم خور کی تلاش اور ہلاکت میں کئی ماہ نکل گئے اور میں اس مسلسل دوڑ دھوپ سے سخت ہلکان ہوا۔ ناظم صاحب ڈاک خانہ، معتمد
ہندوستانی ریاستوں میں سیر و شکار نواب حافظ سرمحمد احمد خاں
متحدہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈریڈنگ ۱۹۲۶ء میں اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار کے اختتام پر انگلستان واپس جانے لگے تو انہوں نے اپنی الوداعی پارٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا، " میں ہندوستان میں دو چیزیں ایسی چھوڑے جارہا ہوں جو مجھے انگلستان میں تازندگی نصیب نہ ہوں گی، ان میں سے پہلی چیز وائسرائے کی سفید رنگ کی خوبصورت اسپیشل ریلوے ٹرین ہے جس میں
میں جب اُس گاؤں کے قریب سے گزرنے لگا تو اُس کے باشندوں نے یہ معلوم کرکے کہ میں شکاری ہوں، رو رو کر مجھ سے فریاد کی کہ میں سب سے پہلے اُن کو شیروں کے ایک جوڑے سے نجات دلاؤں۔ انہوں نے بتایا کہ شیروں کا یہ جوڑا کوئی پانچ چھ مہینے پہلے نزدیکی جنگل میں دیکھنے میں آیا تھا۔ شیر اور شیرنی بڑے پُرامن طریقے سے رہ رہے تھے اور اُنہیں اُن سے
خونخوار درندوں سے دو دو ہاتھ الحاج خان بہادر حکیم الدین
حصولِ رزق کے سلسلے میں انسان جہاں کسی سرکاری یا غیرسرکاری ملازمت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہاں یہ لازم نہیں کہ وہ ملازمت اس کے طبعی رجحانات سے بھی کوئی مناسبت یا مطابقت رکھتی ہو، ورنہ گلے میں پڑا ہوا یہ ڈھول بہرحال تمام عمر بجانا پڑتا ہے۔ تاہم انڈین فارسٹ سروس کے گُلِ سرسبد، برصغیر پاک و ہند کے ممتاز مسلمان شکاری اور میرے
کئی لوگ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اپنی چالیس سالہ شکاری زندگی میں جو ہندوستان کے مختلف جنگلوں میں گزری،کیا میں نے کہیں کوئی بھوت بھی دیکھا؟ میں یہی جواب دیتا کہ بھوت پریت محض انسان کے تخیل کی پیداوار ہیں اور ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ تاہم میری شکاری زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہیں جن میں میرا بھوتوں سے آمنا سامنا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ آج ایک ایسا
اُن دنوں میں بنگلور میں تعینات تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ ستر میل دور جنوب میں سنگم کے مقام پر ایک چیتا آدم خور بن گیا ہے اور اب تک بیسیوں انسانوں اور مویشیوں کو نوالہ بنا چکا ہے۔ جن دنوں اس چیتے نے اپنی وارداتوں کاآغاز کیا‘ میں اپنے فرائضِ منصبی میں اس قدر الجھا ہوا تھا کہ فی الفور اُس طرف دھیان نہ دے سکا۔ اس دوران چند معروف شکاریوں نے اس چیتے کی بیخ کنی کی
آزادی سے قبل گرمیوں کی تعطیلات اپریل سے شروع ہوتی تھیں۔ ان چھٹیوں میں بزرگ انڈے بچّے جمع کرکے شکار کے لیے نکل جاتے تھے۔ جتنی دور جائیں، شکار اتنا ہی اچھا ہوتا تھا۔ اور شکار جتنا اچھّا ہو پروگرام اتنا ہی طویل ہوجاتا تھا۔ٹیم میں ہر قسم کے لوگ ہوتے تھے۔ جن میں شکاریوں اور مصاحبین کے علاوہ ڈاکڑ اور خانساماں بھی شامل ہوتے تھے۔ ڈاکڑوں کی ماہرانہ دیکھ بھال اور مشوروںکا
میرا نام متو خاں شکاری ہے۔ یہ میرے بچپن کے شکار کا واقعہ ہے۔ عجیب و غریب داستان ہے۔ مجھے یہ بیان کرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ میری ابتداء بے حد غربت کے دور سے ہوئی۔ میں بٹول کا رہنے والا ہوں، جہاں کے سنترے ہندوستان میں مشہور ہیں۔ بٹول سے چھے میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں سنترے کے باغات ختم ہو کر جنگلی علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اس گاؤں کا نام