مندر کا شیر اور کماؤں کے مزید آدم خور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مندر کا شیر اور کماؤں کے مزید آدم خور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 31 مارچ، 2013

تلہ دیس کا آدم خور
جم کاربٹ
(۱)
بندو کھیڑا میں جوبن پر آئے ہوئے گل مور کے درختوں کے نیچے لگائے گئے کیمپ سے زیادہ بہتر کیمپ پورے کوہ ہمالیہ میں کہیں نہیں ہو سکتا۔ اب آپ خود ذرا تصور کریں کہ سفید خیمے اور ان پر مالٹائی رنگ

پانار کا آدم خور
جم کاربٹ
(۱)
جب میں ۱۹۰۷ء میں چمپاوت کی آدم خور شیرنی کے شکار میں سر گرداں تھا تو مجھے اس آدم خور تیندوے کا پتہ چلا جس نے الموڑا ضلع کے مشرقی سرے میں دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ یہ تیندوا جس کے بارے ہاؤس آف کامنز میں بھی سوال پوچھے گئے، کئی ناموں

اتوار، 24 مارچ، 2013

چوکا کا آدم خور شیر
جم کاربٹ
چوکا۔۔۔۔۔ جس نے لدھیا وادی کے آدم خور شیر کو چوکا کے آدم خور کا نام دیا۔ لدھیا وادی کے قریب دریائے ساروا کے دائیں کنارے پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس گاؤں کے شمال مغربی کنارے سے ایک راستہ ایک چوتھائی میل چل کر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ جس کا ایک تہائی حصہ تو ٹھک جاتا ہے اور دوسرا حصہ پہاڑیوں میں سے بل کھا کر کوٹی کندری میں ختم

مکتیسر کی آدم خور شیرنی
جم کاربٹ
نینی تال سے اٹھارہ میل شمال مشرق کی طرف آٹھ ہزار فٹ اونچی اور پندرہ میل لمبی ایک پہاڑی ہے جو مغرب سے مشرق کو پھیلی ہوئی ہے۔ اس پہاڑی کا مغربی کنارا ایک دم اوپر کو اٹھا ہوا ہے اور اس کنارے کے نزدیک مکتیسر کا تحقیقیاتی ادارہ برائے جنگلی حیات ہے۔ جہاں ہندوستان میں حیوانات کی بیماریوں کی روک تھام کے لیئے مختلف ادویات کی تحقیق کی جاتی ہے۔ اس ادارہ کی تجربہ گاہ

ہفتہ، 23 مارچ، 2013

مندر کا شیر
جم کاربٹ
جو شخص کبھی دیبی دھورا نہیں گیا وہ اس کے گردوپیش کے مناظر کے حُسن کا کبھی اندازہ نہیں کرسکتا۔ یہاں "پرماتما کے پہاڑ" کی چوٹی کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس ہے۔ اس ریسٹ ہاؤس کے برآمدے میں کھڑے ہوکر آپ جِدھر نظر اٹھائینگے آپ کو ازلی و ابدی حُسن کےطلسمی نظارے دکھائی دینگے۔ ریسٹ ہاؤس سے دریائے پانار کی ڈھلان شروع ہوجاتی ہے۔ اس وادی سے پرے پہاڑیوں کا

Popular Posts