جمعرات، 18 جولائی، 2019

ویت نام کے آدم خور
مقبول جہانگیر
دنیا میں شیروں کی نسلیں آہستہ آہستہ غائب ہوتی جا رہی ہیں اور آجکل یہ جانور افریقہ، بھارت مشرقی پاکستان، ملایا اور ہندچینی کے علاقوں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ افریقہ اور بھارت میں شیروں کے شکار کرنے والے بہت سے شکاریوں نے اپنے اپنے تحیّر خیز تجربات بیان کیے ہیں اور ان ملکوں میں پائے جانے والے شیروں پر کتابیں لکّھی ہیں، لیکن ہندچینی کے وسیع و عریض گھنے جنگلوں میں بہت کم شکاریوں کو شکار کے لیے جانے کا موقع ملا ہے۔ شاید

امبل میرو کا پُراسرار بُھوت
 مقبول جہانگیر
یہ واقعہ میری طویل شکاری زندگی کے اُن عجیب اور لرزہ خیز واقعات میں سے ہے جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے کی صحیح پوزیشن سمجھنے کے لیے آپ کو آندھرا پردیش کے جنگلوں میں جانا پڑے گا۔ ضلع چتّوڑ میں بھاکر پت، چمالا اور مامندر کے تینوں جنگل قریب قریب واقع ہیں۔ ان کے کناروں پر بہت سے گاؤں اور بستیاں آباد ہیں۔ یہ جنگل اپنے قدرتی مناظر کے اعتبار سے جتنے حسین ہیں، اس سے کہیں زیادہ خطرناک

پانار کا آدم خور چیتا
مقبول جہانگیر
پانار کا آدم خور چیتا یقیناً ایسی بَلا تھی جس سے معصوم اور سیدھے سادھے انسانوں کو نجات دلانے کے لیے مجھے بڑی تگ و دَو کرنی پڑی۔ چار سو افراد کو ہڑپ کر لینے کے باوجود اس درندے کی صفتِ خوں آشامی جوان تھی اور اسکی ہلاکت خیز سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا تھا۔ یہ ذکر ہے 1907ء کا اور اُن دنوں مَیں کچھ زیادہ تجربے کار شکاری بھی نہ تھا۔ جنگل کا چلن اور طور طریقے سمجھنے کے لیے ایک مُدّت درکار تھی۔ سب سے پہلے جس آدم خور سے

ملایا کے جنگلوں میں
مقبول جہانگیر
مقبول جہانگیر
یہ ذکر ہے ملایا کے شمال مشرقی جنگلوں کا۔ اُس زمانے میں بصیغۂ ملازمت میں ریاست ترنگا میں تعینات تھا۔۔
موجودہ تہذیب و تمدّن اور جدید ترین آسائشوں سے ناآشنا اِس ریاست میں زمانۂ قدیم کی رسمیں اور رواج رائج تھے، باشندے اگرچہ مسلمان تھے۔ اکثر قرآن کے حافظ اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، تاہم ان میں بھی توہم پرستی زوروں پر تھی اور خصوصاً ربڑ کے جنگلوں

جمعرات، 15 فروری، 2018

تیندوے کے طور طریقے
ہر تیندوا دوسرے سے فرق ہوتا ہے۔ کچھ تیندوے بہت نڈر ہوتے ہیں جبکہ کچھ تیندوے شرمیلے۔ کچھ تیندوے کمینگی کی حد تک چالاک ہوتے ہیں جبکہ دیگر تیندوے احمق۔ میری مڈھ بھیڑ ایسے تیندوؤں سے بھی ہوئی ہے جن میں چھٹی حس پائی جاتی تھی اور ان کے افعال سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ اپنے مخالف کی سوچ پڑھ رہے ہوں۔ آخر میں وہ کمیاب تیندوے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے انسانوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم آدم خور تیندوے

سیوانی پلی کا سیاہ تیندوا
کینتھ اینڈرسن
مترجم: قیصرانی

تعارف

جمعہ، 5 مئی، 2017

جنگل کے افسانے
جم کاربٹ
مترجم: محمد منصور قیصرانی
۱۹۳۵ء میں نجی طور پر شائع ہوئی
پیش لفظ

Popular Posts